Moving to a Safer World with a Million Pleas Campaign | Urdu

AddThis

"ملین پلیز کیمپین" کے ساتھ ایک محفوظ تر عالم کی جانب بڑھتے قدم

بقلم نینا بھنڈاری

IDN-ان ڈیپتھ نیوز انالسس

سڈنی (IDN) – جس طرح سے کہ نیوکلیائی انہدام کا خطرہ ہمیشہ سے زیادہ حقیقی بن گیا ہے، انٹرنیشنل کیمپین ٹو ایبولش نیوکلیر ویپنس (ICAN) آسٹریلیا نے ایک "ملین پلیز" کیمپین شروع کی ہے، جس کے ذریعے دنیا کو ان اسلحہ سے فوری طور پر چھٹکارا دلانے کا اصرار کیا گیا ہے۔

 

ICAN آسٹریلیا کے کیمپین ڈائریکٹر اور ایکزکیوٹو آفسر دمتری ہاکنس کے الفاظ میں، "ملین پلیز کیمپین نیوکلیائی اسلحہ کے مسئلے اور اسلحہ کے مکمل ازالے اور ان اسلحہ کی تنسیخ کرنے کی فوری ضرورت کو ایک شکل و آواز عطا کرتا ہے۔ عوام نیوکلیائی اسلحہ کا مکمل انسداد دیکھنا چاہتے ہیں، لیکن بین الاقوامی قائدین تک یہ پیغام ارسال کرنے کے ذرائع ان کے پاس نہیں ہیں۔ اس پہل کی مدد سے وہ ایسا کر سکتے ہیں۔"

ایک 45 سیکنڈ کی فلم کلپ نے، جس میں جاپانی اسکولی بچّوں اور ایٹمی دھماکے سے بچے 80 سالہ ناکانیشی ایواؤ تمام نو نیوکلیائی ممالک سے دنیا کو نیوکلائی اسلحہ سے آزاد کرنے کی اپیل کر رہے ہیں، دنیا کے سبسے لمبے ویڈیو چین لیٹر اپیل کی شروعات کی ہے، جس میں بین الاقوامی قائدین سے نیوکلیائی تخفیف اسلحہ کرنے کی اپیل کی گئی ہے، اور یہ کسی آن لائن مباحثاتی کیمپیننگ کے لیے ایک جدید عالمی سنگ میل کی مانند ہے۔

ICAN آسٹریلیا کے ذریعے میلبورن کی ایڈورٹائزنگ ایجنسی وہائبن TBWA کے شراکت میں تصمیم کردہ یہ کیمپین، تمام عالم میں لوگوں کو یہ موقع فراہم کرتا ہے کہ وہ اپنی تصاویر اور ذآتی اپیل کو مشہور سماجی نیٹ ورکنگ وسائل، جیسے یو ٹیوب، فیس بک اور ٹویٹر پر اپ لوڈ کر کے نیوکلیائی اسلحہ کا اختتام کرنے کی حمایت کے لیے اپنی آواز بلند کر سکیں۔

اس کیمپین کی شروعات 6 اگست، 2010 کو ہیروشیما اور تین دنوں بعد ناگاساکی پر بم گرانے کی 65 ویں برسی کی یاد میں کیا گیا جس میں لاکھوں لوگوں کی جانیں گئیں، جن میں سے اکثر نے چند منٹوں میں ہی دم توڑ دیا تھا۔ اس کیمپین کے سفیروں میں نوبل امن کا اوارڈ حاصل کرنے والے آرچ بشپ ڈیسمنڈ ٹوٹو، لینڈ مائنس کی ممانعت کرنے والی بین الاقوامی کیمپین کی بانی کو آرڈینیٹر جوڈی ولیمز اور سابق آسٹریلیائی میلکم فریزر شامل ہیں۔

ابتداء کے موقع پر ایک امید اور امن کے پیغام میں اقوام متحدہ کے سیکٹریٹری جینرل بین کی-مون، جو ہروشیما میں پیس میموریل کے جلسے میں شامل ہونے والے پہلے اقوام متحدہ کے صدر ہیں، نے فرمایا: "ہم ایک ساتھ مقام صفر سے چل کے بین الاقوامی صفر تک کے سفر میں ہیں ۔ ۔ ۔ جو کہ وسیع النطاق انہدام کے اسلحہ سے آزاد عالم کا تصور ہے ۔ ۔ ۔ ہمیں ایک بنیادی حقیقت کو ضرور منتشر کرنا چاہیے: کہ رتبہ اور وقار نیوکلائی اسلحہ رکھنے والوں کے پاس نہیں بلکہ ان کے پاس ہے جو ان سے انکار کرتے ہیں۔"

بین کی-مون اقوام متحدہ میں 24 ستمبر کو ایک اعلی مستوی کے جلسے کا انعقاد کر رہے ہیں تاکہ ایک مکمل نیوکلائی ٹیسٹ مامنعت کی ٹریٹی (CTBT)، ایک قابل اشتعال مواد کے انسداد کی ٹریٹی، اور اسکولوں میں اسلحہ کے اختمام کی تعلیم دی جا سکے ۔ ۔ جس میں بچنے والے افراد کی آپ بیتی کا ترجمہ دنیا کی اہم زبانوں میں کرنا شامل ہے۔

باوجود اس کے کہ 153 ممالک نے CTBT میں ترمیم کی ہے، اسے ابھی تک نافذ نہیں کیا جا سکا ہے کیونکہ نو 'نیوکلائی طاقتیں'، ریاستہائے متحدہ، چین، مصر، انڈونیشیا، ایران، اسرائیل، شمالی کوریا، ہندوستان اور پاکستان ابھی تک ٹریٹی میں شامل نہیں ہوئے ہیں۔

ICAN آسٹریلیا کے بورڈ میمبر ٹم رائٹ نے جو ابتدائی جلسہ کے موقع پر ہیروشیما میں تھے IDN کو بتایا، "بچے اور NGOs 'پھر کبھی نہیں' کا پیغام منتشر کرنے کے لیے بے قرار تھے۔ لوگوں کو انسانیت پر مبنی ملین پلیز کیمپین نہایت پرجوش اور متحرک لگی ہے۔ نیوکلیائی اسلحہ کے خلاف بہت سارے مواد جو ہم آجکل دیکھتے ہیں نیوکلیائی دہشت گردی کے خوف جسے کیمپین پر مبنی ہے، لیکن ہم نے ہمیشہ انہیں غیر اخلاقی اسلحہ اعتبار کیا ہے اور ان کے ساتھ کسی بھی ملک پر اعتماد نہیں کیا جا سکتا۔"

بقول رائٹ، "میرے خیال سے بین کی مون اس بحث میں ایک فوری اصرار کا احساس لے آئے ہیں۔ انہیں نے ہیروشیما میں فرمایا تھا کہ وہ 2012 تک CTBT کو نافذ ہوتا دیکھنا چاہتے ہیں اور 2020 میں انسداد کے تصور کو مکمل تصور قرار دیا۔ لھذا یہ اس سے نہایت مختلف ہے جو نیوکلائی اسلحہ کے حامل ممالک فرما رہے ہیں۔"

1945 میں دو جاپانی شہروں پر بم گرنے کے بعد پوری دنیا میں ہزاروں نیوکلیائی ٹیسٹ انجام دیے جا چکے ہیں۔ سات ممالک، ریاستہائے متحدہ، روس (اور سابقہ USSR)، فرانس، ریاست محتدہ، چین، ہندوستان اور پاکستان نے 1945 سے 1998 کے درمیان نیوکلیائی اسلحہ ٹیسٹ کرنا قبول کیا ہے، اور شمالی کوریا نے 2006 اور 2009 میں نیوکلیائی آلات کا ٹیسٹ کیا ہے۔ کزاخستان میں 1991 میں سابقہ سوویت یونین کے صدر نیوکلیائی ٹیسٹ مقام سیمیپالاٹنسک کے اغلاق کے موقع پر 29 اگست کو نیوکلیائی ٹیسٹ کے خلاف پہلا یوم اقوام متحد منعقد کیا گیا۔

اس وقت پوری دنیا میں تقریبا 22،600 نیوکلیائی اسلحہ ہیں۔ ہاوکنس نے IDN کو بتایا، "یہ ایک غیر معمولی تعداد ہے اگر آپ یہ سونچیں کہ محض چند ہی تمام ماحولیات کو تباہ و برباد کرنے، لاکھوں لوگوں کو ہلاک کرنے اور مزید کو منتشر کرنے، قحط اور موسم میں غیر معمولی تبدیلیاں لانے کے لیے کافی ہیں۔ لوگ سمجھتے ہیں کہ نیوکلیائی اسلحہ سے ان کی حفاظت نہیں ہو رہی ہے۔"

NWP

باسیل (سویٹزرلینڈ) میں 25-30 اگست کو بین الاقوامی فیزیشین برائے نیوکلیائی جنگ سے حفاظت (IPPNW) کی 19 ویں عالمی کانفرینس میں ICAN نے یوروپی اور 50 سے زائد شریک ہونے والے ممالک کی حوصلہ افزائی ملین پلیز کیمپین انکے مقامی مسائل کے مطابق تبدلی اور ترمیم کرنے کے لیے کی۔ فلم کی کلپ جو ابھی انگریزی میں اور انگریزی-جاپانی میں ہے آسٹریلیا میں متعدد کاروباری اور عوامی ریڈیو اور ٹی وی چینلوں کے کمیونٹی سروس اعلانات پر پیش کیا گیا ہے۔

ICAN جو کہ ایک عالمی بنیادی تحریک ہے ایک قانونی طور پر لازم، قابل تحقیق اور وقتی جدول پر مبنی نیوکلیائی اسلحہ کے کنوینشن (NWC) کے ذریعے اسلحہ کے اختتام کی دوعت دے رہا ہے تاکہ نیوکلیائی اسلحہ کی ترقی، ٹیسٹنگ، صنعت، استعمال اور استعمال کے خطرے کی ممانعت کی جا سکے۔

حال میں کچھ مثبت پیش قدمیاں ہوئیں ہیں جن سے یہ ظاہر ہوا ہے کہ اگر سیاسی نیت اور تعاون ہوں تو تخفیف اسلحہ ممکن ہے۔ ریاستہائے متحدہ کے صدر باراک اوباما نے صفر نیوکلیائی اسلحہ تک پہنچنے کی ضورت پر مستحکم کلام پیش کیے ہیں اور روسی صدر دمیتری میڈویڈیو کے ساتھ اپریل 2010 میں جدید اسٹریٹیجک آرمس ریڈکشن ٹریٹی (START) کا معاہدہ کیا ہے۔ اس ٹریٹی میں ان دو ممالک کے ذریعے نصب کیے گئے اسٹریٹیجک نیوکلیائی اسلحہ کی تعداد میں 30 فی صد تخفیف کرنا شامل ہے۔ یہ دو ماملک دنیا کے 90 فیصد سے زیادہ نیوکلیائی اصلحہ کے مالک ہیں۔

اس سے قبل جون 2008 میں سابق آسٹریلیائی وزیر اعلی کیون روڈ ہیروشیما جانے والے پہلے مقیم وزیر اعلی تھے جب آسٹریلیا نے جاپان کے ساتھ انڈیپینڈینٹ کمیشن فار نیوکلیائی نان-پرولیفیریشن اور ڈس آرمامینٹ (ICNND) کی تشکیل کی تھی۔

ICNND رپورٹ ایک مخصوص وقت کے اندر تعداد میں مخصوص تقلیل کے ہدف کا اصرار کرتی ہے، جس میں 2025 تک عالمی طور پر زیادہ سے زیادہ نیوکلیائی اسلحہ کی 2000 کی تعداد کا 'تقلیلی نقطہ' شامل ہے۔

لیکن ICAN کے آسٹریلیائی بورڈ میمبر کی حیثیت سے ٹم رائٹ نے IDN کو بتایا، "کمیشن قائم کرنا ایک شے ہے لیکن ایسے مستحکم فیصلے لینا جو اسلحہ کا اختمام کریں ایک مختلف معالمہ ہے۔ لیبر حکومت کوئی سنگین اقدامات اٹھانے کے لیے تیار نہیں ہے، مثلا، نیوکلیائی اسلحہ والے ممالک میں یورینیم فروخت کی ممانعت، ایک نیوکلیائی اسلحہ کی کنویشن کی حمایت کرنا، اور ریاستہائے متحدہ کی نیوکلیائی حفاظت سے انکار۔"

"ہم اس مسئلے کا ایک اہم حصہ ہیں، لہذا میرے خیال سے اس تصور کو درست کرنے کی ضرورت ہے کہ ان معاملوں میں آسٹریلیا ایک 'اچھا شخص' ہے۔ آسٹریلیا ایسے ممالک میں سے ایک ہے جو حفاظت کے لیے ریاستہائے متحدہ کے نیوکلیائی اسلحہ پر منحصر ہیں، اور ایسا کر کے ہم نیوکلیائی اسلحہ کو جواز فراہم کر رہے ہیں، اور دوسرے ممالک کو یہ پیغام دے رہے ہیں کہ حفاظت فراہم کرنے کے لیے یہ مفید اسلحہ ہیں اور یہ اسلحہ کے اختتام میں مزاحمت پیدا کرتا ہے۔ رائٹ کا کہنا ہے، "سابقہ سال کے ڈیفینس وہائٹ پیپر نے آسٹریلیا کی مدافعت میں نیوکلیائی سدود راہ کی اہمیت پر زور بھی دیا تھا۔"

اسلحہ کے اختتام سے متعلق مباحثات میں آسٹریلیا یقینی طور پر اہم ہے کیونکہ یہ یورینیم کا ایک بڑا برآمد کنندہ ہے اور ان نیوکلیائی ممالک کو یورینیم برآمد کرتا ہے جنہوں نے نیوکلیائی انتشار کی مخالف ٹریٹی (NPT) پر دستخط کیے ہیں۔ اپریل 2010 میں حکومت نے روس کو یورینیم برآمد کرنے کی اجازت دی جس کا جائزہ بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجینسی نے سال 2001 کے بعد نہیں لیا ہے۔

سڈنی میں مقیم آزاد متفکر تنظیم دی لووی انسٹیٹیوٹ فور انٹرنیشنل پالیسی نے یہ پایا کہ 84 فی صد آسٹریلیائی عوام آسٹریلیا کے نیوکلیائی اسلحہ کو فروغ دینے کے خلاف ہیں، لیکن جب آسٹریلیا کے چند پڑوسی ملک اسے فروغ دینا شروع کرتے ہیں تو اس مخالفت کا سقوط 57 فی صد اور 42 فی صد تک آسٹریلیا کے مشابہ اقدامات لینے کے حق میں ہو جاتا ہے۔ IDN-ان ڈیپتھ نیوز/2010۔08۔31)

حق اشاعت © 2010 IDN-ان ڈیپتھ نیوز | موزوں تجزیہ

 

Search