Sanctions Do Not Lead To Nuke Abolition in Asia - URDU

AddThis

ایشیا میں جوہری ہتھیاروں کے انسداد کے لئے پابندیاں غیر موثر

کیلنگا سینورٹنے

IDN - ان ڈیپتھ نیوزانالیسیس

اقوام متحدہ سیکورٹی کونسل کی جانب سے 22 جنوری کو شمالی کوریا کے خلاف پابندیوں میں توسیع کے ردعمل میں شمالی کوریا کی جوہری تجربات دوبارہ شروع کرنے کی دھمکی اور اور پچھلے سال نومبر میں جنوب مشرقی ایشیائی ممالک کی تنظیم آسیان ( ASEAN) کی طرف سے پانچ اڑیل جوہری طاقتوں کوجنوب مشرقی ایشیا کو جوہری اسلحے سے پاک علاقہ بنانے کے معاہدے (SEANWFZ) پر دستخط کرنے پر راضی کرنے میں ناکامی نے عالمی معیشت کے مرکز کے طور پر ابھرتے ہوئے ایشیائی خطے کو درپیش ایٹمی خطرات کو اجاگر کیا ہے.

اس ساری صورت حال کے تناظر میں اوباما انتظامیہ کی ایشیا کے بارے میں امریکی "پیوٹ یا "ری بیلنس " پالیسی بھی ہے جسے خطے میں اقتصادی یا سیاسی وابستگیاں تبدیل کرنے کے حوالے سے نہیں بلکہ ایک سیکورٹی ایشو کے طور پر دیکھا جا رہا ہے.

دو برس قبل اس پالیسی کے اعلان کے بعد سے چین کے بحیرہ ساؤتھ چائنہ کے متعلق جغرافیائی دعوے کے پیش نظر خطے میں کشیدگی میں خاطر خواہ اضافہ دیکھنے میں آیا ہے جس کی وجہ سےایشیا میں بعض تجزیہ کار یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ کہیں امریکا ایشیائی ممالک مَثَلاً جاپان، فلپائن اور ویت نام کو چین کے ساتھ محاذ آرائی پر اکسا تو نہیں رہا.

شمالی کوریا کے حالیہ رویے کے پیش نظر ایشیا کے لئے جوہری محاذ آرائی کا خطرہ- مستقبل بعید میں ہی سہی مگر باعث تشویش ہےجب کہ ایشیا صدیوں کی مغربی اقتصادی گرفت سے ابھی باہر نکل رہا ہے.

نومبر 2012 میں کمبوڈیا میں ہونے والے 21 ویں آسیان اجلاس میں طے شدہ منصوبے کے مطابق تین نیوکلیئر ممالک روس، فرانس اور برطانیہ کی SEANWFZ معاہدے پر دست خط کرنے میں ناکام کی ایک وجہ چین کے ساتھ ممکنہ محاذ آرائی بھی ہو سکتی ہے- فرانس نے اپنےخود دفاعی کے حق سے متعلق تحفظات کااظہار کیا ہے، جبکہ برطانیہ نے " نئے خطرات" اور روس نے امریکا کی طرح غیر ملکی بحری اور ہوائی جہازوں کی جوہری اسلحے سے پاک زون میں سے گزرنے کے حق پر آواز اٹھائی ہے.

SEANWFZ کا تصور 27 نومبر 1971 کو سامنے آیا جب آسیان کے پانچ اصل ممالک نے کوالالمپور میں امن، آزادی اور غیر جانبداری کے (ASEAN) زون کے اعلامیہ ZOPFAN پر دستخط کیے. آسیان کی جانب سے ZOPFAN کے جس اہم حصے پہ سب سے پہلے توجہ دی گئی وہ SEANWFZ کا قیام تھا.

تاہم خطے کے ناسازگار سیاسی ماحول کی وجہ سے ایسے زون کے قیام کی تجویز رسمی طور پر 1980 کی دہائی کے وسط میں ہی پیش کی جا سکی. ZOPFAN پر آسیان کے ورکنگ گروپ کے ایک دہائی پہ محیط مذاکرات اور مسودات کے بعد 15 دسمبر 1995 کو بنکاک میں تمام 10 آسیان رکن ممالک کے سربراہان نے دستخط کیے اور اس کا اطلاق دو سال بعد شروع ہوا.آسیان اور پانچ جوہری طاقتوں کے مابین اس پروٹوکول پر مزاکرات مئی 2001 سے جاری ہیں جن کا تاحال کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہوا.

معاہدے میں بیان کردہ کئی قواعد و ضوابط میں سے چند اہم یہ ہیں کہ دستخط کرنے والی ریاستوں پر ان چیزوں کی پابندی ہوں گی: جوہری ہتھیار تیار کرنا ، بنانا یا کسی دوسرے طریقے سے حاصل کرنا؛جوہری ہتھیاروں کی ملکیت یا کنٹرول حاصل کرنا؛ جوہری ہتھیار نصب کرنا اور زون کے اندر یا باہر کہیں بھی جوہری ہتھیار ٹیسٹ یا استعمال کرنا.

یہ پروٹوکول یہ بھی تقاضہ کرتا ہے کہ نیوکلیئر ویپن ریاستیں (NWS ) بھی اس معاہدے کی شکوں پر عمل کریں اورممبر ممالک کے خلاف جوہری ہتھیاروں کے استعمال یا استعمال کی دھمکی سے گریز کریں. چین نے اس معاہدے کی توثیق کرنے کا عندیہ دیا تھا لیکن باقی چار ممالک اس معاہدے کے جغرافیائی دائرہ کار کو رکاوٹ قرار دیتے ہیں. معاہدے کے زون میں زون سے تعلق رکھنے والے ممالک کے علاقے، کانٹیننٹل شیلف اور خصوصی اقتصادی زون شامل ہیں.

ملائشیا کے ماہر سیاسیات اور انٹرنیشنل موومنٹ فور اے جسٹ ورلڈ کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر چندر مظفر نے IDN کو دیے ہوے ایک انٹرویو میں کہا کہ اگرچہ آسیان ممالک کے SEANWFZ کا مسودا تیار کرنے اور اس پر دستخط کرنے کے اقدامات قابل تعریف ہیں لیکن " تمام پانچ نیوکلیئر ویپن ریاستیں ہر قیمت پر اپنے نیوکلیئر مفاد کو برقرار رکھنے کے لئے پرعزم ہیں'. "سیلف ڈیفنس " محض ایک کیموفلاج ہے".

ڈاکٹر مظفر کا خیال ہے کہ خطے کی حکومتیں جوہری طاقتوں کو معاہدے پر دستخط کرنے پر آماد نہیں کر سکیں گی اور صرف غیر حکومتی طاقتیں ہی اس مقصد کے حصول کے لئے ایک مشترکہ مہم چلا سکتی ہیں.ان کا استدلال ہے کہ "حتمی تجزیے میں دیکھا جائے تو صرف ایک طاقتور عوامی مہم ہی اس براعظم کو حالیہ اور مستقبل کے جوہری ہتھیاروں سے پاک کر سکتی ہے."

سابقہ آسٹریلوی وزیر خارجہ اور جوہری عدم پھیلاؤ اور انسداد اسلحہ کے لئے جنوب مشرقی لیڈرشپ نیٹ ورک (APLN) کے کنوینر ڈاکٹرگا ریتھ ایونس اس بات پر افسوس کا اظہار کرتے ہیں کہ تین سال پہلے ایشیا پیسفک کو ایٹمی ہتھیاروں سے پاک کرنے کی جو امید بندھی تھی وہ اب ختم ہوتی نظر آ رہی ہے.

آسٹریلین نیشنل یونیورسٹی کے جوہری عدم پھیلاؤ اور انسداد اسلحہ کے سینٹر کے ڈائریکٹر پروفیسر رمیش ٹھاکر جاپان ٹائمز میں لکھتے ہیں کہ نیوکلیئر ہتھیاروں سے لیس تمام ریاستوں کے جوہری اسلحے کی تنظیم نو، جدیدیت اور ان کی تعداد اور تباہی پھیلانے کی صلاحیت بڑھانے کےحوالے سے منصوبوں پر نظر ڈالی جائے تو یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ان میں سے کوئی بھی جوہری ہتھیاروں کی خاتمے میں سنجیدہ نہیں."

حالیہ مہینوں میں چھپنے والے علاقائی جرائد میں متعدد مبصرین شمالی کوریا کے خطرے سے نمٹنے کے لئے یہ دلیل دیتے نظر آ رہے ہیں کہ ایٹمی ہتھیاروں کو بین الاقوامی نفرت کا نشانہ بنانے کی بجاۓ امریکا کو اس بات پر قائل کیا جائے کہ وہ جزیرہ نما کوریا میں ٹکٹیکل ہتھیار دوبارہ نصب کرے جو بش انتظامیہ نے 1991 میں وہاں سے ہٹا لئے تھے.

سیون ہن چیون جو کہ کوریا انسٹیٹیوٹ فور نیشنل یو نفکیشن میں سینئر ریسرچ فیلو ہیں گلوبل ایشیا میں شائع کردہ ایک کومنٹری میں دلیل دیتے ہیں کہ "جنوبی کوریا کی سرزمین پر جوہری ہتھیاروں کی موجودگی سے شمالی کوریا کے خلاف امریکی جوہری چھتری پر اعتماد میں اضافہ ہو گا اور جنوبی کوریا کے عوام کو امریکا کے سیکورٹی تحفظات کی یقین دہانی ہو گی."

اس کے باوجود چین خطے میں تناؤ کم کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے.نئی قیادتوں کے زیر اثر چین اور جنوبی کوریا کے تعلقات میں گرم جوشی کی توقع کی جا رہی ہے. جنوبی کوریا کے نو منتخب صدر پارک گن ھی نے پہلے ہی اپنا خصوصی ایلچی چین بھیج دیا ہے اور چین کی کمیونسٹ پارٹی کے نۓ سربراہ چی جن پنگ نے شمالی کوریا پر چھ فریقی مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کا مطالبہ کیا ہے."

شنگھائی کی فوڈان یونیورسٹی کے امریکن اسٹڈیز کےسینٹر کے ڈائریکٹر پروفیسر شن ڈینگلی کا کہنا ہے کہ اگر امریکا ایشیا پیسفک خطے میں امن اور استحکام کا خواہش مند ہے تو اسے چین کے ساتھ مل کر کام کرنا چاہیے.[ IDN- ان ڈیپتھ نیوز- 29 جنوری 2013]

 

 

Search