Thorny Road Ahead For Middle East Conference - URDU

AddThis

مشرق وسطہ کانفرنس کے لئے کانٹے دار راہیں

رپورٹ: رمیش جا‌‍‌‍ؤرا

آئ.ڈی.این- انڈیپتھ نیوز انالیسس

برلن(آئ.ڈی.این)- جب سے اقوام متحدہ نے ١٤ اکتوبر، ٢٠١١ کو مشرق وسطیٰ کو جوہری اور دیگر بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں سے پاک زون بنانے کے لیئے فنلینڈ میں کانفرنس کا انعقاد کرنے کا اعلان کیا ہے تب سے ہی اس کانفرنس کے مستقبل پر خاموشی اور راز کے پردے پڑے ہوئے ہیں. جیسے جیسے یہ پردے ہٹ رہے ہیں انکی مشابہت اسرائیل کی "خاموشی کی دیوار"، جس کو اسرائیل ہی کے ہتھیار مخالف کارکن شرون ڈولیو (کامیابی کے ساتھ) توڑنے کی کوشش کر رہے ہیں، سے کی جاسکتی ہے.

برلن، لندن اور ہیلسنکی میں موجود باخبر ذرائع کے مطابق یہ کانفرنس ١٤ سے ١٦ دسمبر تک ضرور عمل میں ائیگی اور فنلینڈ کے تجربہ کار سیاستدان اور سفارتکار جاکو لاجاوا اس کی انتظامیہ کے سربراہ ہونگے. تاہم اس کانفرنس کے متعلق کسی کے بھی احساسات پر جوش نہیں ہیں.

جوہری اسلحہ کی تخفیف کے لئے مہم (CND) کی جنرل سیکٹری اور جنگ مخالفت اور جوہری ہتھیار مخالفت مہم کی ایک مشھور کارکن، کیٹ ہڈسن، کا کہنا ہے کے "بہت سے لوگ اس تجویز کو ایک سچ ہوتے خواب کی ترہاں دیکھیں گے." اور انہوں نے یہ بھی کہا کے، "ظاہر سی بات ہے کے اس کانفرنس کو کامیاب بنانے کے لیئے ہمیں بہت سی رکاوٹوں کو سر کرنا ہوگا، لیکن بلا شبہ اس خطے کو سب سے بڑا خطرہ اس کانفرنس کی ناکامی سے ہوگا."

جوہری عدم پھیلاؤ معاہدے (NPT) کی ابتدائی کمیٹی کی مئی ٢٠١٢ کو ویانا میں ہونے والی میٹنگ میں رکاوٹوں کے متعلق رپورٹ کرتے ہوےٴ لاجاوا نے کہا ہے کے اگرچہ انہوں نے خطے کے اندر اور باہر، ١٠٠ سے زائد میٹنگز منعقد کی تھیں، ابھی تک وہ متعلقه ریاستوں سے شرکت کے لیئے کوئی معاہدہ تے نہیں کر پاۓ.

لاجاوا کے اس بیان (جس میں کچھ نیا نہیں تھا) کی خبر کے استقبال میں کئی انگلیاں اٹھیں: "ایران اور اسرائیل کے نہ آنے کے زیادہ امکانات ہیں اور شام کی آمد ایک بڑا سوالیہ نشان ہے". مارٹن بی مالن جوہری سائنسدانوں کے بلیٹن میں لکتھے ہیں.

لیکن مالن کو، جو ہارورڈ کینیڈی اسکول آف گورمنٹ کے بیلفر سینٹر براۓ سائنسی اور بین‌الاقوامی امور کے مینیجنگ دی آیٹم پراجیکٹ کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ہیں، پھر بھی امید ہے کے اسرائیل شاید شرکت کرے،اپنے خطے کے پڑوسیوں کے ساتھ سب سے اہم مسلے کے متعلق مذاکرات کرنے کے لیئے جو کے بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں (WMD) کی ملکیت کی حد کو قائم کرنے پر ہوگی وہ بھی بل آخر اپنی خود کی صلاحیتوں کو مذاکرات کی میز پر لا کر.

مالن کا ماننا ہے کہ، "مشرق وسطی کی غیر ایٹمی اور غیر WMD خطہ میں منتقلی کی شرائط پر مذاکرات کے دوران ایک غیر WMD خطہ پر بحث کر کے اسرائیل کو اپنے ایٹمی ہتیاروں کی اجار‌٥داری کی ایک طویل عبوری مدت مل سکتی ہے. یہ علاقائی ہتھیاروں کی روک تھام کا ایک فورم بطور مذاکرات استعمال کر سکتے ہیں جو کہ دوسرے خطوں میں پھیلاؤ پر تشویش کے لیئے ہو گا.

ان کے خیال میں، ایران کی سلامتی مفادات کے لیئے بھی غیر WMD زون کا تعاقب اہم ہے. کیونکے ایران کا اسرائیل کے ایٹمی ہتھیاروں کی روک تھام میں طویل عرصے کا سٹریٹجک فائدہ ہے اور، "ایران کے رہنماؤں کو جتنا بھی برا لگے، اسرائیل سے براہ راست علاقائی سلامتی پر اور WMD کی پابندی پر مذاکرات ہی اس بات کو ممکن بنا سکتے ہیں.

فارز خبر رساں ایجنسی نے اطلاع دی ہے کے، لاجاوا نے رسمی طور پر ایران سے کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی ہے.انہوں نے یہ درخواست ١٠ ستمبر، ٢٠١٢ کو ایران کے نائب وزیر خارجہ مہدی اخوندزادے سے تہران میں میٹنگ کے دوران کی تھی.

جیسے جیسے مقررہ تاریخ قریب آرہی ہے، انتظامیہ اور سول سوسائٹی کی تنظیموں کو اہم شرکاء کو جوہری ہتھیاروں سے پاک زون بنانے کے لیئے ان کو راضی کرنے کا ایک بہت بڑے کام کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، جو ہڈسن کے مطابق، دنیا کے بڑے حصوں کی اجتمائی سلامتی کا سب سے کامیاب راستہ ہے. فلحال ١١٥ ریاستوں اور ١٨ دیگر علاقوں کا تعلق ٥ معاہدوں سے ہے، جو کے دنیا کے اکثریتی علاقوں اور تقریبا دنیا کا تمام جنوبی حصہ ڈھانپ لیتا ہے.

ایران کی طرف سے آغاز

مشرق وسطیٰ میں ایسے ہی زون کے قیام کی تجویز سب سے پہلے ١٩٧٤ میں ایران نے پیش کی تھی جو کے اب اپنے مبنہ جوہری ترقیاتی پروگرام کی وجہ سے نفرت کی نظر سے دیکھا جاتا ہے. مصر نے ١٩٩٠ میں علاقے میں کیمیائی اور حیاتیاتی ہتھیاروں کی عقاسی کرتے ہوۓ اس تجویز کی توسیع کر کے اس میں دیگر WMD کی شمولیت کی. غیر DMW زون کو حاصل کرنے کے لیئے ایک قرارداد ١٩٩٥ میں جوہری عدم پھیلاؤ معاہدہ (NPT) کی جائزہ کانفرنس میں منظور کی گئی تھی.

١٥ سال بعد، ٢٠١٠ کے NPT جائزہ کانفرنس نے مشرق وسطیٰ میں ایک غیر WMD زون قائم کرنے کے لیئے ٥ ضروری اقدامات کی نشاندہی کی جن میں ٢٠١٢ کو علاقائی کانفرنس بلانے اور انتظامیہ مقرر کرنا بھی شامل تھا.

CND کی ہڈسن کی احتیاطی تدابیر، "غیر WMD زون کے قیام میں ناکامی سے کسی بھی ممکنہ جنگ میں نقصانات کا خدشہ بہت زیادہ ہوگا. اور یہ نقصان ہمیشہ جانی ہی ہوتا ہے."

مئ ٢٠١٢ میں ٢٠١٥ کے NPT جائزہ کانفرنس کی مقررہ کمیٹی کو پیش کیئے جانے والے ایک دستاویز میں مصر کے وزیر خارجہ نے عام تشویش کا اظہار کرتے ہوۓ کہا ہے کے عرب لیگ فنلینڈ کی کانفرنس کو اپنی جوہری پالیسی کے حوالے سے ایک اہم دوراہے کے طور پر دیکھتی ہے. ان کا ماننا ہے کے اگر DWM کی تخفیف کے حقیقت پسندانہ اور عملی اقدامات پر اتفاق نہ ہوسکا تو جوہری ہتھیار کا پھیلاؤ خطے میں ایک خطرناک حقیقت بن جاۓ گی. لہٰذا بین القوامی برادری کو اس سے بچنے کے لیئے ہر ممکنہ اقدامات اٹھانے چاہییں.

سلامتی خدشات اور ہتھیاروں کی صلاحیت پر کھلی بحث کی بہت زیادہ ضرورت ہے جو کے مشرق وسطیٰ میں غیر WMD زون کے قیام اور قمیابی کے لیئے بہت اہم ہونگیں. اس کا آغاز بات چیت کے راستے کھولنے سے ہی ہوسکتا ہے جو کہ حقیقی سلامتی اور امن کی روح ہے.

ڈولیو اور مٹھی بھر اور کارکنان گرینپیس کے جھنڈے تلے اور بین الاقوامی جوہری ہتھیاروں کی تخفیف کی مہم (ICAN) اور دیگر مہم کے تعاون سے اسی پر کام کر رہا ہے.

جو ہے سو ہے

ڈولیو نے IPPNW جرمنی کے منعقد کیئے گئے 'میٹ دی پریس' اوینٹ میں کہا کہ، "اگرچہ پوری دنیا مسلسل اسرائیل اور اسکے جوہری اثاثوں کے متعلق بحث و مباحثہ کر رہے ہیں، اسرائیل میں ابہام اب بھی زندہ ہے اور یہ مسلہ ممنوع بن گیا ہے." انہوں نے آگے بڑھتے ہوۓ کہا، "ایک معاشرے کے طور پر جب ہم جوہری مسلے کے بارے میں سوچتے ہیں تو ایران کے بارے میں سوچتے ہیں، جو کے اب تک ایک حقیقت بھی نہیں بنی ہے. جب مشرق وسطیٰ میں جوہری ہتھیاروں کے موضوع پر بات ہوتی ہے تو ہم ایران کی طرف انگلیاں اٹھاتے ہیں (جو اسرائیل کے برعکس NPT کے دستختکنندہ ہیں)."

دولیو موجودہ صورتحال کی وضاحت کرتے ہوۓ کہتا ہے کے، "جیسے ایک کبڑے شکس کو اپنا کبھ نظر نہیں آتا ویسے ہی نہ ہمیں اپنے جوہری ہتھیار دکھائی دیتے ہیں، نہ سنائی دیتے ہیں اور نہ ہی سوجھائی دیتے ہیں. اور نہ ہی ہم انکی ضرورت کے بارے میں سوال کرتے ہیں سوائے اسکے کے ہم وقتن فوقرن ایران کو جوہری ہتھیار سے تباہ کرنے کی دھمکی دیتے ہیں. وہ بھی غور کیئے بغیر کے اسرائیل ایک جوہری ریاست ہے."

اگرچہ اسرائیلی بحث کرنے کے لیئے تیار ہوتے ہیں، وہ نہ صرف جوہری سوالات کو ممنوع سمجھتے ہیں بلکہ اس معاملے پر مختلف اظہار رائے کرنے کو پیچیدہ سمجھتے ہیں. زیادہ تر لوگ یہ مانتے ہیں کے صرف اعلیٰ عہدے پر فائز سیاستدان اور فوجی افسران اس بات کو ٹھیک سمجھتے ہیں.

پییر کلوشنڈلر کا کہنا ہے کے، "عبرانی زبان میں متعلق معلومات حاصل کرنا بہت مشکل ہے اور انگریزی میں معلومات کثیر تعدات میں موجود ہے لیکن اس پر تجزیہ کرنا بہت مشکل ہوتا ہے. اس پر بحث کے کم مواقع ہونے کی ایک اور وجہ یہ بھی ہے کے ١٩٥٠ میں اس کی تخلیق سے اسرائیلی حکومت نے 'ابہام' کی پالیسی اپنائی ہوئی ہے."انکی سوچ یہ ہے کے یہ خطے میں جوہری ہتھیار لانے والا اکیلا ملک نہیں ہوگا.

ابہام کا مطلب کے بین الاقوامی برادری کو ڈمؤنا کو نظر انداز کرتے رہنا چاہیے، جو کے اسرائیل کا جوہری پروگرام کا مرکز ہے اور صرف نتانز پر نظر رکھیں جو کہا جاتا ہے کے ایران کے جوہری پروگرام کا مرکز ہے.[ آئ.ڈی.این- انڈیپتھ نیوز انالیسس اکتوبر ١٧، ٢٠١٢]

آئ.ڈی.این- انڈیپتھ نیوز انالیسس | تجزیہ جو معانے رکھے

 

 

Search