India Set to Take Lead on Abolishing Nukes - URDU

AddThis

ہندوستان نیو کلیائی اسلحے کے خاتمے کی کوششوںمیں بنیادی رول ادا کرنے کے لےے تیار

شاستری راما چندرن

آئی ڈی این ان ڈیپتھ نیوز انے لائسس

نیو دہلی:(آئی ڈی این)۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ حکومت ہندعالمی سطح پر جوہری اسلحے کی تخفیف کی کوششوں میںسنجیدگی کے ساتھ پیش قدمی کا ارادہ رکھتی ہے۔ایسی فضا کودوبارہ وجود میںلانے کے لےے ،جس میں جوہری اسلحے کی تخفیف کے بنیادی نظریات اور مقاصد کو عملی جامہ پہنا یا جا سکے،تازہ قسم کا جوش و خروش ایسے بہت سے معاملات میںنظر آتا ہے،جس کا مقصد دنیا کو جوہری اسلحے سے پاک کرنے کے لےے ہندوستان کے سابق وزیر اعظم راجیو گاندھی کے ایکشن پلان(آر جے اے پی) کو آگے کی طرف لے جانا ہے۔

مذکورہ پلان جو 1988میں تشکیل دیا گیا تھا اور جو ”آر جے پی 88“ کے نا م سے مشہور ہوا تھا ۔اس نے دنیا کی توجہ اپنی طرف اس وقت مبذول کی تھی جب ”شش ملکی اور پنج بر اعظمی پیش قدمی“ کے عروج کے طور پر اس ایکشن پلان کی شروعات عمل میں آئی تھی۔تاکہ ایسے وقت میں،جب کہ دنیا کی دوسوپر طاقتوں کی لفظی جنگ اپنے شباب پر تھی،جوہری اسلحے کے خدشات کو پیشگی طور پر دور کیا جا سکے۔وزیر اعظم راجیو گاندھی اس میںکامیاب نہ ہوسکے کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی1988 میں ان کے نظرےے کو قبول کرلے۔

اب 23 سالوں کے بعد ”آر جے اے پی 88“ کواس طرح نئی زندگی عطا ہوگئی ہے، جب اگست 2011 میں آر جے پی سے متعلق ایک غیررسمی گروپ نے 284 صفحات پر مشتمل ایک رپورٹ پیش کی۔اس گروپ کے ’غیر رسمی‘ ہونے کی حیثیت غلط فہمی میں مبتلا کرنے والی ہے۔اس لےے کہ گروپ سے متعلق کوئی چیز غیر رسمی نہیں ہے۔اس کے برعکس یہ غیر رسمی گروپ ،جسے وزیر اعظم ہند من موہن سنگھ نے اکتوبر 2010 میں تشکیل دیا تھا،وزیر اعظم کا ایڈوائزری گروپ ہے،جس کا مقصد تخفیف اسلحہ کے تعلق سے آرجے اے پی میںنئی روح پھونکنا ہے۔

اس گروپ کے سربراہ سابق وزیر اور ممبرپارلیمنٹ منی شنکرایر ہیں،جوسیاست میںداخلے سے قبل فارن سروس میں تھے اور وزیر اعظم راجیوگاندھی سے بہت زیادہ قریب تھے۔گروپ میں اہم سفارت کار،اسٹرے ٹیجک امور اور جو ہری اسلحے کے ماہرین اور دانش گاہوں کے اساتذہ شامل ہیں۔ وزیر اعظم من موہن سنگھ نے اس غیر رسمی گروپ کی تشکیل صدر امریکا باراک اوباما کی اپریل 2009 کی تقریر کے بعدکی تھی۔باراک اوباما نے اپنی مذکورہ تقریر میں جوہری اسلحے سے پاک دنیا کی امن وسلامتی کووجود میں لانے کے عزم کا اظہار کیاتھا۔یہ سہرا صدر اوباما کے سر جاتا ہے کہ ایک جوہری اسلحہ رکھنے والے ملک کے وہ پہلے سربراہ ہیں،جنہوں نے خود سے اس عہد کی پابندی کا اظہار کیا کہ دنیا کوجوہری اسلحے سے پاک رکھنے کی کوشش کی جائے۔انہوںنے دنیا کوجوہری اسلحے کے خطرات سے متنبہ کیا۔انہوں نے کہا کہ جوہری اسلحے کے دہشت گرد عناصر کے ہاتھ میںجانے کا خطرہ ”سرد جنگ کی نہایت خطرناک وراثت ہے۔

غیررسمی گروپ کی مذکورہ رپورٹ میں یہ سفارشات پیش کی گئی ہیں کہ کس طرح دنیا کوجوہری اسلحے سے پاک کرنے کی فکرکو آگے بڑھا یا جاسکتا ہے۔یہ رپورٹ اس حقیقت کو تسلیم کرنے پرمبنی ہے کہ ہندوستان کا جوہری اسلحے کا حامل ہونا اس کے امن و سلامتی کی کوئی بہت بڑی ضمانت کی شکل میں سامنے نہیںآیا۔جوہری اسلحے سے پاک دنیا کی طرف قدم آگے بڑھانے کا معاملہ سرد جنگ کے زمانے کے مقابلے میں آج زیادہ توجہ کا متقاضی ہے۔اس لےے کہ اس وقت کے مقابلے میں آج بہت سی ریاستیں جوہری اسلحے کی مالک ہیں۔جب کہ متعدد ریاستیں جوہری اسلحے کے حصول کی کوششیں کرسکتی ہیں۔اس لےے رپورٹ میں ملک میں ایسی مہم چلانے کی اپیل کی گئی ہے،جس کا مقصد جوہری اسلحے کے خطرات اور دہشت گردوں کی طرف سے جوہری حملے کے امکان کے خطرات سے متعلق لوگوں کے اندر بیداری پیداکرنا ہے۔

اسی حقیقت کی طرف توجہ مبذول کراتے ہوئے کہ ہندوستان کوزبردست اور محسوس خطرات درپیش ہیں،خواہ یہ خطرات جوہری حملے کی شکل میں ہوں یا جوہری دہشت گردی کی شکل میں ،اس بات پر زوردیا گیا ہے کہ ”ہندوستان کی امن و سلامتی عالمی سطح پر تخفیف اسلحہ کی کوششوں میں مضمر ہے۔ایڈ وائزری گروپ کے ارکان نے واضح طور پر اس بات کا اعتراف کیا کہ انہیں جوہری اسلحے کی تخفیف سے متعلق امریکا کی مدد سے خود اعتمادی حاصل ہوئی ہے ۔ظاہر ہے 1988 میں اس طرح کاتعاون امریکا کی طرف سے اس بارے میں حاصل نہیںتھا۔یہ رپورٹ وزیر اعظم اور وزیر خارجہ ایس ایم کرشنا کو پیش کی گئی،جس میں’ آر جے پی 88‘ کے احیا کی طرف اولین قدم کے طور پر یہ سفارشات پیش کی گئی ہیں کہ ایک خصوصی کو آرڈی نیٹر متعین کیا جائے جس کا کام یہ ہو کہ وہ جوہری اسلحہ کی تخفیف سے متعلق ایک کمیٹی کی تشکیل کے لےے لوگوں کے درمیان اتفاق کی فضا بنانے کی کوشش کرے۔

ہفت نکاتی روڈ میپ

یہ رپورٹ ایک ہفت نکاتی روڈ میپ پر مشتمل ہے جس کے تحت 14 سفارشات پیش کی گئی ہیں۔روڈ میپ میں ہندوستان نے اپنا یہ عہد دہرایا ہے کہ وہ عالمی غیر متعصبانہ اور قابل تصدیق عمل کے حصے کے طور پر اپنے نیوکلیائی اسلحے کے ذخیرے کوختم کرسکتا ہے ۔جس کا مقصد ہے :سلامتی کے نقطہ نظر سے اس کے پھیلاو_¿ کومحدود کرنے کی ضرورت پر اتفاق راے کی فضا بنانا ،نوفرسٹ یو ز کے اصول کی پابندی، سلامتی کے تعلق سے واجب العمل یقین دہانی، نیو کلیائی اسلحہ کی تخفیف پرہونے واالی کا نفرنس میں اس نعرہ کو پروان چڑھانا کہ :” آگ کویوں ہی جلنے دو۔“تاکہ اس موضوع پر بحث ومباحثہ منعقد ہوسکے اور متعلقہ ممالک کوجوہری اسلحے کے مکمل خاتمے پر آمادہ کیا جاسکے۔اور اس کے بعد اس مسئلے پر ایک رسمی معاہدے کے ذریعے جوہری اسلحے کے استعمال یا خطرات کوروکنے کی کوشش کرنا۔ان تمام اقدامات کا مقصد جوہری اسلحے کی تحفیف سے متعلق ایک کنونشن کی راہ ہموار کرنا ہے،جو ایک متعین وقت کے اندردنیا کو جوہری اسلحے سے پاک کرنے سے متعلق بحث و مباحثے پر مشتمل ہو۔

رپورٹ میں یہ سفارش پیش کی گئی ہے کہ جوہری اسلحے کے حامل ملک(اسٹیٹ وتھ نیو کلیر ویپنس ۔ایس این ڈبلیو) کی حیثیت سے ہندوستان جو کم سے کم نیوکلیائی اسلحے کے استعمال کے عہد کا پابند ہے،کو نیوکلیائی اسلحہ رکھنے والے تمام ملکوںکے ساتھ دو طرفہ گفت و شنید شروع کرنی چاہےے۔تخفیف اسلحہ کی کوششوں کوپر وان چڑھا نے کے لےے رپورٹ میں حکومت سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ سول سو سائٹی کی پیش قدمیوں میں فعالیت کے ساتھ شریک ہو،وزارت خارجہ کی نیوکلیائی اسلحے کی تخفیف کے شعبے کو مضبوط کرے اوریو این جی اے میں ملک کے پروفائل کواوپر اٹھا ئے۔

گروپ کی طرف سے اس خواہش کا اظہار کیا گیا ہے کہ ہندوستان نیو کلیائی اسلحے کے خاتمے کی عالمی سطح پر کی جانے والی کوششوں میں قائدانہ رول ادا کرے اور اس مقصد کے لےے 60 سالوں کے درمیان کی جانے والی مہم کی اخلاقی قوت اور بین اقوامی سطح پر اس کے ابھر کر آنے والے اثرات کواس میں لگائے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ہندوستان کے لےے یہ نہایت مناسب و قت ہے کہ وہ اپنی روایت کے مطابق ،دوبارہ جوہری اسلحے کی تخفیف کی حمایت میں آگے آئے۔ اہمیت کی بات یہ ہے کہ تخفیف اسلحہ کے تعلق سے عالمی سطح پر ماحول بہتر ہو رہا ہے۔کیوں کہ تخفیف اسلحہ کاعملیہ آگے بڑھ رہا ہے۔

رپورٹ میںجن نئے پہلووں پر زور دیا گیا ہے ،وہ ہیں:تخفیف اسلحہ کی مہم کے لےے تبدیل شدہ اور منا سب عالمی ماحول ،امریکا کی اسلحے کے خاتمے کی حمایت ،ہندوستان کی اس تعلق سے پیش قدمی کاعہد ،ملک کے اندر اس قضےے کو آگے بڑھانے کے لےے لائحہ عمل تیار کرنا نیز دو طرفہ ،علاقائی اور بین اقوامی سطح پر ا س مقصد کے لےے جنوری 2012 سے کی جا نے والی کوششوں کے خاکے کی تیاری ہے ۔یہ عملی خاکہ دراصل ایک مرحلہ وار کام کا حصہ ہے۔

یہ حقیقت کہ گروپ کے چیر مین منی شنکر ایر نے ملکی اور عالمی سطح پر مجوزہ روڈ میپ پرکام شروع کردیا ہے؛ان کوششوں کے سنجیدہ ہونے کی غماز ہے۔

ہندوستان نیویارک کا نفرنس میں

بین اقوامی سطح پر اس سال یواین ڈے(24اکتوبر) نے اس رپورٹ کی طرف دنیا کی توجہ کومبذول کرنے کا ایک اہم پلیٹ فارم مہیا کردیا ہے۔’گلوبل سیکوریٹی انسٹی ٹیوٹ‘،’ دی ایسٹ ویسٹ انسٹی ٹیوٹ‘ اور’ جیمس مارٹن سینٹر فار نان پرو لیفے ریشن‘ کی طرف سے منعقد ہونے والی نیویارک میں منعقدہ ایک کانفرنس میں مختلف مقررین نے، جن میں اقوام متحدہ کے جنرل سکریٹری بان کی مون اور منی شنکرایر نے نیو کلیائی اسلحے کے خاتمے کا مضبو ط نشانہ متعین کیا۔

کانفرنس صرف اس اعتبار سے اہم نہیں تھی کہ اس میں موضوع کے تعلق سے جو ش و جذبے کا اظہار کیا گیا ،بلکہ اس اعتبار سے اہم ہے کہ وہ نیو کلیائی اسلحے کے خاتمے سے متعلق بیداری پیدا کرنے کی مہم کو دوبارہ شروع کرنے کا اہم اسٹیج تھا۔اس اعلا سطحی کانفرنس نے اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل کی پنج نکاتی تجویز کو ،جو در اصل نیوکلیائی اسلحے کے خاتمے کا جامع ایجنڈا ہے اور جو سب سے پہلے تین سال قبل پیش کیا گیا تھا،خصوصیت کے ساتھ توجہ کا مرکز بنایا۔

تازہ صورت حال

وزیر اعظم اور وزیر خارجہ کورپورٹ پیش کےے جانے کے بعد تازہ صورت حال سے آئی ڈی این کو مطلع کرتے ہوئے ودیا شنکر ایرنے ،جوگروپ کے ایڈوائزر کی حیثیت سے خدمت انجام دے رہے ہیں ،کہا کہ ہندوستان کے نیشنل سیکوریٹی ایڈوائزرشوشنکر مینن ان پیش قدمیوں کی، جن کی تجویز رپورٹ میں پیش کی گئی ہے ،بہت زیادہ حوصلہ افزائی کرنے والے تھے۔

گروپ کے چیر مین منی شنکر ایر وزیر خارجہ کی موجودگی کے ہمراہ وزارت خاجہ کے سینیر افسران کے ساتھ ایک میٹنگ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔اس کا مقصد ایک قومی سطح کی کانفرنس کی تیاری ہے جوایڈ وائزری گروپ، انڈین کاو_¿نسل آف ورلڈ افیرس ( آئی سی ڈبلیو اے)کے ساتھ مل کر جنوری 2012 میں منعقد کرنا چاہ رہا ہے۔ا س نیشنل کانفرنس کے تعلق سے یہ توقع ہے کہ ا س میں اسٹرے ٹیجک امور کے متخصصین، نیوکلیائی اور نیوکلیائی اسلحے کی تخفیف کے موضوعات کے ماہرین اور فکر ساز اداروں کی شرکت عمل میںآ سکے گی۔

ڈاکٹرو دیا شنکر ایر کے مطابق ، ایڈ وائزری گروپ ا س کے بعد پڑوسی ممالک میں کانفرنسیں منعقد کےے جانے اور سیکوریٹی کاو_¿نسل کے پانچ مستقل ممبران ( پی 5) کوایک بین اقوامی پلیٹ فارم کی تشکیل کے لےے باہم مجتمع کرنے سے قبل علاقائی سطح پر اس موضوع سے متعلق اتحاد و ہم آہنگی کی فضا بنانے کی تجویز رکھتا ہے۔

(مضمون نگار سیاسی اور بین اقوامی امور کے تبصرہ کار ہیں۔اس وقت وہ دہلی میں مقیم ہیں۔وہ” سنڈے میل “کے ایڈیٹر رہ چکے ہیں۔ انہوں نے ہندوستان اور ہندوستان سے باہر جیسے چین، ڈنمارک، سوئیڈن وغیرہ میں اہم اخبارات کے ساتھ کام کیا ہے۔وہ بےجنگ میں ”چائنا ڈیلی “ اور” گلو بل ٹائمس“ کے سینیر ایڈیٹیراور قلم کار تھے۔اس سے تقریبا بیس سال قبل وہ” ٹائمس آف انڈیا“ اور” دی ٹری بیون“ کے سینیر ایڈیٹرتھے۔)( آئی ڈی این۔ان ڈپتھ نیوز)

 

Search