Pakistan Rock Firm Against New Nuclear Treaty - URDU

AddThis

نئے جوہری معاہدے کے خلاف پاکستان کا سخت رویہ

جےسی سریش
آئی ڈی این، ان ڈیپتھ نیوز

ٹورونٹو-آئی ڈی این- پاکستان نے بین الاقوامی دباوکے باوجود اس عالمی معاہدے پر دستخط کرنے سے نہایت سختی کے ساتھ انکار کردیا ہے، جس کا مقصد جوہری اسلحے میں استعمال ہونے والے انفجار پذیر مادے کی پیداوار پر پابندی عائد کرنا ہے۔ اپنے سخت مخالفانہ موقف کا اعادہ کرتے ہوئے پاکستان نے اس بات سے متنبہ کیا ہے کہ وہ تعطل کا رشکار ”یو این کانفرنس آن دس ارمامینٹ“ (اقوام متحدہ کانفرنس برائے تخفیف اسلحہ- سی ڈی) کے دائرے سے باہر کسی بھی ایسے معاہدے سے متعلق گفت وشنید کا بائیکاٹ کرے گا، جسے امریکہ کی حمایت حاصل ہو۔ ”سی ڈی“ مختلف سطحوں پر تخفیف اسلحہ سے متعلق گفت وشنید کا واحد فورم ہے۔

امریکہ نے ہندوستان کے ساتھ جس طرح کے جوہری معاملات پر دستخط کےے ہیں، پاکستان کے ساتھ اسی طرز پر معاملہ کرنے سے امریکہ کے انکار سے ناراض پاکستان نے جوہری طاقت رکھنے والے مغربی ممالک پر امتیازی رویہ اپنانے کا الزام عائد کیا اور اقوامِ متحدہ کے جنرل سکریٹری بان کی مون کی بات پر بھی کسی نوع کی دلچسپی کا اظہار نہیں کیا، جبکہ بان کی مون ”سی ڈی“ میں پیدا شدہ تعطل کو ختم کرنے کے لےے کوشاں ہیں۔

اقوامِ متحدہ کے جنرل سکریٹری نے نیویارک میں منعقد ہونے والی جنرل اسمبلی کی ایک میٹنگ میں یہ تجویز رکھی ہے کہ سرکردہ لوگوں پر مشتمل ایک پینل کی تشکیل کی جائے نیز جنرل اسمبلی کی یا اقوامِ متحدہ کانفرنس کی ایک اڈہاک کمیٹی بنائی جائے تاکہ ان کے ذریعے اس تعطل کو ختم کرنے میں مدد مل سکے۔

۲۷جولائی ۲۰۱۱ءکو نیویارک میں جنرل اسمبلی کے اجلاس کو جس کا انعقاد ”ماتسوموتو“ (جاپان) میں تخفیف اسلحہ کے مسائل پر ہونے والی اقوامِ متحدہ کی ۲۳ویں کانفرنس کے ساتھ ساتھ عمل میں آیا، بان کی مون نے کہا کہ ”ہم بے اعتمادی کی پروان چڑھتی ہوئی فضا میں اس اجلاس میں شرکت کررہے ہیں۔“

جنرل اسمبلی کی یہ میٹنگ ۲۰۱۰ءمیں ”کانفرنس آن ڈس ارمامینٹ اینڈ ملٹی لٹرل ڈس ارمامنٹ نیگوشی ایشنز“ (کانفرنس برائے تخفیف اسلحہ اور کثیر فریقی تخفیف اسلحہ بات چیت) کی ایک اعلا سطحی میٹنگ کے فالواپ کے طور پر منعقد ہوئی تھی۔ بان کی مون نے کہا کہ: ”عرصہ_؟ دراز سے اقوامِ متحدہ کی کثیر فریقی تخفیف اسلحہ مشنری خاص طور پر ”سی ڈی“ بے نتیجہ رہی ہے۔

۱۹۷۹ءمیں بین الاقوامی سطح پر تخفیف اسلحہ کے موضوع پر گفت و شنید کے واحد کثیر فریقی فورم کے طور پر ”سی ڈی“ کی تشکیل عمل میں آئی تھی۔ اس فورم کا اہم مقصد جوہری اسلحہ سازی کی دوڑ کو روکنا، جوہری ہتھیاروں کی تخفیف کے عمل کو پروان چڑھانا، نیوکلیائی جنگ کے خطرات کو روکنا نیز آو_؟ٹر اسپیس میں اسلحہ کی دوڑ پر پابندی لگانا وغیرہ تھا۔

اقوامِ متحدہ کے جنرل سکریٹری نے کہاکہ :” اگر اختلافات باقی رہتے ہیں تو ہم سرکردہ شخصیات پر مشتمل ایک اعلا سطحی پینل تشکیل دینے پر غور کرسکتے ہیں جیسا کہ ہم نے تجویز پیش کی ہے۔ متبادل کے طور پر ریاستیں جنرل اسمبلی یا اقوامِ متحدہ کانفرنس کی ایک ایڈہاک کمیٹی کے تحت باہمی گفت و شنید کو عمل میں لاسکتی ہیں۔“ انھوں نے اس بات پر زور دیا کہ بین الاقوامی برادری کو کثیر فریقی سطح پر گفت و شنید کے عمل کو آگے بڑھانے سے گریز نہیں کرنا چاہےے۔ انھوں نے کہا کہ تخفیف اسلحہ کی کوششوں کا مقصد چند لوگوں کی ترجیحات کو آگے بڑھانا نہیں ہے، بلکہ اس کا مقصد عمومی سطح پر تمام فریقوں کو فائدہ پہنچانا ہے۔

موضوع پر بولتے ہوئے انھوں نے مزید کہا کہ: ”اگر ”سی ڈی“ تعطل کا شکار رہتی ہے تو جنرل اسمبلی کی یہ ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ اس تعلق سے قدم آگے بڑھائے.... سی ڈی کو ہمیشہ کے لےے ایک یا دو رکن ملکوں کا یرغمال بن کر نہیں رہنا چاہےے۔ باہمی بات چیت کے ذریعے اپنے اندیشوں کو سامنے لانے کی کوشش کرنی چاہےے۔ ہم اب باہمی اختلاف کو طول نہ دیں۔ ہمیں چاہےے کہ ہم اس طویل تعطل کو توڑنے کی کوشش کریں۔“

بان کی مون کو امریکہ کی حمایت:
امریکہ نے اقوامِ متحدہ کے جنرل سکریٹری بان کی مون کی حمایت کی ہے۔ امریکی وزیر خارجہ کے معاون روز گوٹے موئیلر نے ۲۷جولائی کو وزارتِ خارجہ سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہاکہ: ”ایسے وقت میں جب کہ اسلحہ پر پابندی اور ان کی تخفیف کے دوسرے شعبوں میں نمایاں سطح پر قدم آگے بڑھے ہیں۔ یہ نہایت افسوس کی بات ہے کہ ایک واحد ریاست نے ”سی ڈی“ کو اس بات سے روک دیا کہ وہ تخفیف اسلحہ کے تعلق سے اپنی عملی ذمہ داری انجام دے اور اپنے قدیم مقصد کی تکمیل کے لےے باہمی گفت و شنید کو عمل میں لائے۔“

گوٹے موئیلر نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا: ”امریکہ کی ترجیح یہ ہے کہ وہ ”سی ڈی“ کے دائرے میں رہتے ہوئے ”ایف ایم سی ٹی“ (فیسائل میٹریل کٹ آف ٹریٹی) کو بحث و مباحثے کا موضوع بنائے۔ ہم نے آسٹریلیا اورجاپان کے اس پیش رفت کا خیر مقدم کیا کہ وہ اس سال ”سی ڈی“ کے پہلو بہ پہلو سنجیدہ تکنیکی ”ایف ایم سی ٹی“ کے بحث ومباحثے کو عمل میں لائیں۔ یہ عمل نہایت مفید و نتیجہ خیز رہا۔ لیکن اس مرکزی حقیقت کو چھپایا نہیں جاسکتا کہ ”سی ڈی“ کا عمل تو قف اور تعطل سے دوچار رہا اور ہم لوگ اس وقت ”ایف ایم سی ٹی“سے اتنے قریب نہیں ہیں، جتنے دو سال قبل تھے۔ یہ پروگرام زیر ترتیب ہے کہ اقوامِ متحدہ کی سیکوریٹی کاو_؟نسل کے پانچ مستقل ممبران اور ”دوسرے متعلق شرکا“ ستمبر منعقد ہونے والے اقوام متحدہ کے جنرل اسمبلی اجلاسوں میں اس مسئلے کو زیر بحث لائیں۔
گوٹے موئیلر نے کہا کہ :”سرکردہ لوگوں کا ایک پینل، خود ”سی ڈی“ اور بعض دوسرے افراد، ”سی ڈی“ کے اندر بالفعل اصلاحات کا اندازہ لگانے کے لےے غوروخوض کرسکتے ہیں۔ علاوہ ازیں نیویارک میں ”یو این ڈس ارمامنٹ کمیشن“ میں ممکنہ تبدیلیوں کی بھی تجویز پیش کریں گے۔“انھوں نے کہا کہ عملی سطح پر اس موضوع پر غوروخوض میں یہ بات شامل ہوگی کہ سال بہ سال ”کانفرنس برائے تخفیف اسلحہ“ (سی ڈی) سے متعلق متفقہ کام کو جاری رکھنے کے لےے کس طرح کوشش کی جانی چاہےے۔ جیسے ایک متفق علیہ کام کے پروگرام کا خود بخود آگے بڑھتے رہنا، قومی سلامتی کے مفادات کی، متفقہ ضابطے کی پامالی کو روکتے ہوئے، حفاظت کرنا اور کیا کانفرنس برائے تخفیف اسلحہ کی توسیع اس کی قوت کار میں اضافے کا باعث ہوگی اور گفت و شنید سے متعلق اداروں میں عالمی سطح پر تخفیف اسلحہ کے مقاصد کی ترجمانی کس طرح کی جائے۔ اس انداز میں کہ ان کی حسن کارکردگی کی صلاحیت و توانائی برقرار رہے نیز یہ یقین دہانی بھی کرائی جاسکے کہ ریاستوں کی سلامتی کے معاملات کا خیال رکھا جائے اور اس کی حفاظت کی جائے۔

تنبیہی نوٹ:
اقوامِ متحدہ کے جنرل سکریٹری اور امریکہ کی باتو ںکے ردِ عمل میں پاکستان کے کارگزار سفیر رضا بشیر تارڑ نے ۶۵ ممبر کمیٹی سے باہر ایف ایم سی ٹی سے متعلق گفت و شنید سے متعلق ہوشیار رہنے کی ترغیب دی۔ انھوں نے زور دے کر اس بات کا اعادہ کیا کہ پاکستان اس عمل میں شریک نہیں ہوگا، نہ ہی اس قسم کے کسی عمل کے نتیجے میں وہ اس میں شامل ہونے پر غور کرے گا۔

اپنے ایک بیان میں جو گزشتہ دو سالوں کے پاکستان کے موقف کے مطابق ہے، تارڑ نے کہا کہ: ”ان پالیسیوں نے عدم توسیع اسلحہ کے مقاصد کو قوت اور منافع کی بھینٹ چڑھاتے ہوئے ہمارے علاقے میں انفجار پذیر مادے کے ذخیرے میں عدم تناسب کو نمایاں کردیا ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ یہ پالیسیاں بلا روک ٹوک جاری رہیں اور نیو کلیئر سپلائر گروپ کے ارکان میں سے کسی بھی رکن نے ان کی مخالفت نہیں کی۔ حالانکہ اس میں جوہری اسلحہ کی عدم توسیع کے معاہدے (این پی ٹی) کے کئی پرزور حامی اور ”سی ڈی“ کے عمل میں پیش قدمی کے فقدان کے متعدد ناقدین شامل ہیں۔

تارڑ نے کہا کہ اگرچہ بڑی طاقتوں نے ”سی ڈی“ میں اصلاحات کو روبہ عمل لانے اور ایسے ادارے کو جسے وہ بالکل ٹھپ اور دور ازکارتصور کررہے تھے، سے دامن کش ہوجانے کے اقدامات پر غوروخوض کیا اور ان عملی ضابطوں کو اپنی تنقید کا نشانہ بنایا، جنھوں نے اپنے تمام تر فیصلوں میں اتفاق رائے کی ضرورت کے ساتھ تمام ریاستوں کو ویٹو پاور عطا کردیا۔ اس ویٹو پاور سے ان میں سے ہر کسی کو یہ اختیار حاصل ہوگیا کہ وہ کسی بھی پیش رفت کو روک دیں۔ کانفرنس کے ٹھپ ہوجانے کی حقیقی وجہ جوہری طاقت رکھنے والی بعض ریاستوں کے اندر ایسی سیاسی جرا_؟ت کی کمی ہے کہ وہ منصفانہ طریقے پر متوازن انداز میں مسئلے پر گفت و شنید کرسکیں۔

اپنی بات جاری رکھتے ہوئے تارڑ نے کہا کہ ”سی ڈی“ کو جو مشکلات درپیش ہیں، وہ تنظیمی اور عملی نوعیت کی نہیں ہیں، بات چیت کا ایک طے شدہ انداز ہے جو طاقت ور ممالک کے مفاد میں ہے۔

انھوں نے کہا کہ : ”کانفرنس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ صر ف ان مسائل کو بحث کا موضوع بنایا جائے جو بعض ریاستوں کی نگاہ میں پکے ہوئے پھل کی طرح ہیں اور انھیں صرف توڑنا باقی ہے۔ اس تعلق سے انھوں نے اس بات کی طرف اشارہ کیا کہ صرف ان معاہدوں کو بات چیت کا موضوع بنائے جانے کانہج اختیار کیا جاتا ہے، جن کی کوئی زد طاقت ور ممالک کے امن و سلامتی کے مفادات پر نہیں پڑتی ہے۔“ تارڑ نے اس تعلق سے حیاتیاتی کیمیائی اسلحہ کنونشن اور سی ٹی بی ٹی کا مثال کے طور پر حوالہ دیا۔ انھوں نے کہا کہ ”یہی بات ”ایف ایم سی ٹی“ سے متعلق بھی کہی جاسکتی ہے۔“ انھوں نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ بڑی مقدار میں جوہری اسلحہ اور انفجار پذیر مادے کا ذخیرہ جمع کرلینے کے بعد جسے کسی بھی وقت فوراً نیوکلیر وارہیڈ میں تبدیل کیا جاسکتا ہے، یہ بڑی طاقتیں ایسا معاہدہ کرنا چاہتی ہیں، جس کے تحت نیو کلیائی انفجار پذیر مادے کی آئندہ پیداوار پر پابندی عائد کی جاسکے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان طاقتوں کو خود اپنے لےے اب ان کی ضرورت باقی نہیں رہ گئی ہے۔“ پاکستانی سفارت کار کے بقول یہ ان کے لےے مفت کا طریقہ ہے اس لےے کہ انھیں کوئی قیمت چکانی نہیں پڑتی اور اس سے ان کی سلامتی کی صورتحال پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔

ان اسباب کے تحت پاکستان کو مجبوراً جوہری اسلحہ سے متعلق انتخابیت پسندی اور امتیاز و تعصب کے خلاف موقف اختیار کر نا پڑا ہے۔ کسی بھی ملک سے یہ توقع نہیں رکھنی چاہےے کہ وہ ایک ایسے طریقہ کار کے لےے جس کی دوسرے متعلقہ ممالک کو کوئی قیمت چکانی نہیں پڑ رہی ہے، اپنے امن و سلامتی کے مفادات سے سمجھوتہ کرے۔“ تارڑ نے ایسے متعدد اقدامات کی نشان دہی بھی کی جو ان کے بقول ایک ایسے ایمان دارانہ اور معروضی نقطہ_؟ نظر کو وجود میں لانے کے لےے ضروری ہےں جن کی بنیاد پر تخفیف اسلحہ کی مشنری کو دوبارہ زندہ و متحرک کیا جاسکے۔

ان سفارشات میں کانفرنس کے ذریعہ مساوات و توازن کے ساتھ مختلف اہم اور حساس مسائل کو زیر بحث لانا ہے، اس طرح کہ جوہری اسلحے کی تخفیف کا مسئلہ ایجنڈے میں سب سے اوپر رہے۔ مزید برآں جوہری اسلحہ نہ رکھنے والے ممالک کے لےے امن و سلامتی سے متعلق منفی یقین دہانیوں کے بارے میں کوئی ایسا تفصیلی ضابطہ ہونا چاہےے جو قانونی طور پر لازمی ہو۔

اگر ایف ایم سی ٹی پر دستخط کردیا جائے تو وہ نیوکلیائی اسلحہ میں استعمال ہونے والے انفجار پذیر مادے کے تعلق سے موجود احتیاطی پیش بندیوں کے تئیں ایک لازمی بین الاقوامی کمٹ منٹ کے اضافے کے ذریعہ جوہری اسلحے کے عدم پھیلاو_؟ کے ضابطوں کو مستحکم کرنے والا ہوگا۔ وہ نیوکلیائی انفجار پذیر مادے یا دوسرے نیوکلیائی انفجار پذیر آلات پر پابندی عائد کردے گا۔ اس کا اطلاق غیر انفجار پذیر مقاصد کے لےے پلوٹونیم اور ”ایچ ای یو“ پر منطبق نہیں ہوگا۔ مزید برآں غیر انفجار پذیر مادے پر بھی اس کا اطلاق نہیں کیا جاسکے گا، جیسے ٹری ٹیم اور وہ جوہری اسلحے کے موجودہ ذخیرے کو بحث میں نہیں

لائے گا۔ (ترجمہ: وارث مظہری)
(یو این نیوز سروس اور ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان کی خبروں پر مبنی)

 

Search