Pugwash and Germany Strive for Nuke-Free World - URDU

AddThis

پگواش کانفرنس اور جرمنی کی جوہری اسلحے سے پاک دنیا کو وجود میں لانے کی کوشش

جمشید بر وا

آئی ڈی این ۔این ڈیپتھ نیوز رپورٹ:

برلن(آئی ڈی این)پچھلے دنوں برلن میںجوہری اسلحے کی تخفیف کے موضوع پر اس سال کی دوسری اہم کانفرنس منعقد ہوئی،جو عالمی سلامتی کے لےے خطرہ بنے ہزاروں جوہری اسلحے سے دنیا کو پاک کرنے کی کوششوں میں سنگ میل ثابت ہوسکتی ہے۔

 

یکم جولائی 2011 کو جس دن جرمنی کوسلامتی کونسل کی صدارت کا منصب حاصل ہوا،43 ممالک کے پالیسی سازوں اور ماہرین نے59 ویں ”پگواش کانفرنس آن سائنس اینڈ ورلڈ افیرس“ کا افتتاح کیا جس کا موضوع تھا :جوہری اسلحے کی تخفیف اور کش مکش کے خاتمے میں یوروپی شراکت“۔اس کانفرنس کے ساتھ” ناٹو“۔ روس تعلقات کے موضوع پر پورے دن چلنے والی ایک سمپوزیم کا انعقاد بھی عمل میں آیا۔

 

اس موضوع پر پہلی کانفرنس اسی سال اپریل میں جرمنی وزیر خارجہ گائڈو ویسٹرویل کی پہل پر برلن میںمنعقد ہوئی تھی۔جس میںجوہری اسلحے سے پاک مختلف بر اعظموں سے تعلق رکھنے والے10 ممالک کے وزرائے خارجہ شریک ہوئے تھے۔آسٹریلیا ،کناڈا،چلی،جرمنی،جاپان ،میکسیکو ،نیدر لینڈ،پولینڈ،ترکی اور متحدہ عرب امارات کے وزرا ئے خارجہ نے اپنے برلن اعلانےے میں مشرق وسطی میںجوہری اسلحے اور عوامی سطح پر تباہی پھیلانے والے دیگر اسلحوں سے پاک خطے کی تشکیل کی ضرورت پر زور دیا تھا۔یہ موقف نیو یارک میں مئی 2010 میں منعقد ہونے والی این پی ٹی ریویو کانفرنس کے طے شدہ موقف کے مطابق تھا جس کے تحت 2012میںاس موضوع پر تنظیم کی طرف سے ایک کانفرنس کا انعقاد عمل میں لائے جانے پر اتفاق کیا گیا تھا۔

 

ویسٹر ویل نے پگواش کانفرنس کے شرکا کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ:” جرمنی کی حکومت ایک ایسی دنیا کو وجود میں لا نے کی خواہاں ہے جوجوہری اسلحے سے پاک ہو“۔شرکائے کانفرنس میںاسلحہ مذاکرات کارروسی وزیر خارجہ سرگئی ریاب کوف اور امریکی انڈر سکریٹری رو ز گوٹے موئیلرشامل تھے ، جنہوںنے تخفیف اسلحہ کے لےے مستقبل کے اقدامات پر روشنی ڈالی۔

 

مختلف ممالک کے دوسر ے شرکا میں آٹھ موجود ہ وزرا اور چار سابق انٹلی جینس چیف، متعدد پارلیمانی ارکان ، نیز دنیا کے اہم خطوں کی نمایاں شخصیات شامل تھیں۔ویل نے کہا کہ:” ناٹو کے اندر ہم چاہتے ہیں کہ روس کے ساتھ جو ہری اسلحے کی تخفیف کے موضوع پر ہونے والی اگلی گفتگو میںذیلی استراتیجی جوہری اسلحے کے موضوع کو بھی ۔ “شامل کریں- گلوبل زیرو یعنی ایک ایسی دنیا جوجوہری اسلحے کے خطرات سے دور ہو،ہمارا طویل مدتی ہدف ہے اور ہم ہمیشہ ان کو ششوں کو ایسے وسیع تناظر میں رکھتے رہیں گے جس میں روایتی اسلحہ کی تخفیف شامل ہو۔

 

ویسٹر ویل نے اکتوبر 2009 جرمنی کی قدامت پسند ۔لبرل مخلوط حکومت کا منصب سنبھالنے سے قبل ہی جوہری اسلحے کی تخفیف کو ،خواہ اپنے ملک میں ہویا دوسرے ممالک میں،اپنا ایک اہم مقصد قرار دیا تھا۔

جرمنی کے تعلق سے اس کا مطلب یہ ہے کہ تقریبا 20جوہری ہتھیاروںکو جرمنی کے اندر ہی ضائع کردیا جائے،جس کو امریکہ اب تک باقی رکھے ہوئے ہے۔حالاں کہ دیوار برلن کے سقوط ،سرد جنگ کے خاتمے اور جرمنی کے دونوں حصو ں کے انضمام پر بیس سال کا عرعصہ گزر چکا ہے۔بیرون ممالک میں تخفیف اسلحہ کی کوششوں سے مراد جوہری اسلحے سے پاک دنیا کی طرف قدم آگے بڑھانا ہے، جس پر کام کرنے کا صدر اوباما نے پیرا گوئے کے اپریل 2009 کے اپنے مشہور خطاب میں عزم کا اظہا رکیا تھا۔

 

انسانیت کو خطرہ:

ویسٹر ویل نے کہا کہ جوہری اسلحہ نہ صرف اس صورت میں انسانیت کے لےے خطر ہ ہے کہ وہ آمریت پسند ملکوںکے پاس ہو ،بلکہ اس صورت میں بھی جب کہ وہ جمہوریت پسند ممالک کے ہاتھوں میں ہو۔یہ ضمانت نہیںدی جاسکتی کہ وہ غلط استعمال اورلاپروائی سے محفوظ رہے گا۔آمریت پسند حکم رانوں کے ہاتھوں میں اس کی خطرناکی کی صورت حال پرروشنی ڈالتے ہوئے انہوں نے کہا کہ:”آمریت پسند حکومتیں اس وقت زیادہ مشکلات پیدا کرنے والی بن جاتی ہےں جبکہ وہ جوہری اسلحہ کے حصول کی کوشش کرتی ہیں۔اس کی اہم مثال ایران اور شمالی کوریا کی حکومتیں ہیں لیکن انہیں وسیع تناظر میںرکھ کر دیکھناچاہےے“۔

 

2010میںجوہری اسلحہ کے عدم پھیلاﺅکے موضوع پر ہونے والی کانفرنس میں کےے گئے معاہدے کا حوالہ دی ہوئے انہوں نے کہا کہ دس سالوں کے توقف کے بعد تخفیف اسلحہ کا عمل اس نئی دہائی میں نہایت اہمیت کے ساتھ شروع ہوا ہے۔کلسٹر اسلحہ کنونشن گزشتہ موسم گرما میں رو بہ عمل آچکا ہے۔ناٹو نے دنیا کو جوہری ہتھیاروںسے پاک کرنے کے نشانے کو اپنی نئی حکمت عملی کا حصہ بنایا ہے۔امریکہ اور روس نے استراتیجی جوہری اسلحوںکی تخفیف پر ایک ”نیو اسٹارٹ “ معاہدے کی توثیق کردی ہے۔“

 

ویل نے شرکا کو مخاطب کرتے ہوئے کہا: ”نہ صرف یہ کہ یہ آپ لوگوں کے لےے بحیثیت ماہرین اچھی خبر ہے بلکہ یہ پوری انسانیت کے لےے نہایت خوش آئندہے۔“ انہوں نے ان لفظوں میں یقین دہانی کرائی کہ: امن وسلامتی سے متعلق ہماری پالیسی گہرائی کے ساتھ اقوام متحدہ سے وابستہ ہے۔عالمی چیلنجوںکا جواب مضبوط بین اقوامی قانون پرمبنی مضبوط اقوام متحدہ کے تحت مضبوط یورپ کا وجودہے۔بین اقوامی سلامتی اور قانون کی تعمیل کے بنیادی پتھر ہونے کی حیثیت سے اپنی معتبریت دوبارہ حاصل کرنے کے لےے اقوام متحدہ کے لےے ضروری ہے کہ وہ 21 ویں صدی کے حقائق سے خود کو ہم آہنگ کرنے کی کوشش کرے- انہوں نے4G ممالک :جاپان ،جرمنی انڈیا اور برازیل کی طرف سے سلامتی کونسل کی توسیع سے متعلق پیش قدمی کی طرف ترچھے طور پر اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ:ا”فریقہ ،جنوبی امریکہ اور ایشیا کو سلامتی کونسل میں مناسب نمائندگی حاصل نہیں ہوسکی ہے۔جب کہ جنوبی افریقہ کا نام اس اتحاد کے پانچویں ملک کی حیثیت سے بکثرت ذکرکیا جاتا ہے“۔

 

30 جون کو” ناٹو ۔روس تعلقات میں جوہری ہتھیاروں کے رول کی تخفیف “کے موضوع پر منعقد ہ سمپوزیم کو خطاب کرتے ہوئے ویل کے نائب” ورنر ہوئر“نے کہا کہ :” ہمارا مشترکہ سیاسی نشانہ----جوہری اسلحے میں تخفیف مزید----مکالمہ اور باہمی اعتماد کو مشترکہ تعاون کے ذریعہ مضبوط کرکے ہی پور کیا جاسکتا ہے۔“

 

دس سال کے تعطل کے بعداین پی ٹی ریویو کانفرنس میں اجتماعی طور پر ”نیو اسٹارٹ“ معاہدے پر باتفاق راے دستخط کرنے اور ناٹو کے نئے استراتیجی نظرےے کو اختیار کےے جانے کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 2010 کا سال ہتھیاروں پر کنٹرول کا اہم سال رہا ہے۔تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہمیں صرف اپنے گزشتہ کارناموں پر ہی مطمئن نہیں ہوجا نا چاہےے۔ ہمیںکھلے موضوعات کوتوجہ کا مر کز بنانا چاہےے۔ناٹو روس تعلقات میں پائی جانے والی مشکلات کو زبانی طور پر حل نہیںکیا جاسکتا۔اس لےے اہم بات یہ ہے کہ واضح طور پر اس کی نشان دہی کی جائے کہ مشکلات کی نوعیت کیا ہے اور ان کا مناسب حل تلاش کرنے کی کوشش کی جائے۔

 

ناٹو روس مشکلات:

یہ مشکلات ایسے حل کی متقاضی ہیں جو جوہری اسلحے کی تخفیف ،روایتی اسلحے کے کنٹرول کے عمل کو تقویت دینے اور ایسے میزائلی دفاعی نظام کووجودمیںلانے سے تعلق رکھتا ہے جس سے ناٹو اور روس دونوں فائدہ حاصل کرسکیں۔

 

ہوئر نے کہا کہ استراتیجی نظریہ، جو لزبن چوٹی کانفرنس میں اختیار کیا گیا تھا ناٹوکے اس عزم کو ظاہر کرتا ہے کہ وہ ایسی صورت حال کو وجود میںلائے جس کی بنا پر یورپ میں موجود جوہری ہتھیاروں کو مزید کم کرنے کی کوشش کی جاسکے۔اسی کے ساتھ انہوں نے روسی اسلحے کے عظیم ذخیرے کے ساتھ غیرمساوی برتاو

فکر کا موضوع بنائے جانے کی ضرورت پرزوردیا۔ کے معاملے کو بھی

 

انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ:”بد قسمتی سے گزشتہ مہینوںمیںروسی اہل کاروںنے اس بات کو بالکل واضح کردیا ہے کہ ماسکو اپنے ذیلی استراتیجی جوہری اسلحہ کے موضوع پر گفت وشنید میںبہت زیادہ دل چسپی نہیں رکھتا۔ تاہم یہ مناسب نہیںہوگا کہ یہ انکار ہمیں مستحکم تجاویز کوزیر بحث لانے سے روک دے ،جس کا کم از کم مقصد یہ ہے کہ ممکنہ طور پر آئندہ کے تخفیف اسلحہ کے عمل کی شروعات کی جاسکے“ ۔انہوںنے تجویز پیش کی کہ :”ایک قدم یہ ہوسکتا ہے کہ1991-1992 کی امریکی روسی صدارتی پیش قدمیوںکی دووبارہ تجدیدکی کوشش کی جائے۔اس وقت سے اب تک غیر استراتیجی اسلحے تخفیف اسلحہ کی مساعی کا مو_©ضوع نہیں رہے ہیں۔ہمیںمعلوم ہے کہ سیاسی اور تکنیکی دونوں پہلووںسے ”نیواسٹارٹ“ معاہدے کے تحت کی جانے والی کوششوںکو موضوع بحث بنانا نہایت پیچیدہ اور چیلنج آمیز معاملہ ہے۔شرو ع سے ہمارا نشانہ شفافیت کی صورت حال کو مزید بہتر بنانا اور اعتماد سازی ہوسکتا ہے۔1991-1992 کے کمٹ منٹ کو عملی جامہ پہنانا،کسی بھی قسم کی ذمہ داری اور توثیق کا موضوع نہیںرہا ہے،جس سے ان جوہری ہتھیاروںسے نمٹنے کے عمل میں نئی مشکل کھڑی ہوجاتی ہے۔تاہم ایسا نہیں ہونا چاہےے کہ ہم اس وجہ سے قدم آگے بڑھانے سے رک جائیں“۔

 

پگواش کانفرنس:

پگواش کانفرنس کی اہمیت پرروشنی ڈالتے ہوئے اس کے صدر اور اقوام متحدہ کے سابق انڈرسکریٹری جنرل برائے اسلحہ ”جیانتا دھانا پالا“ نے اپنے بیان میں کہا کہ: پگواش کانفرنس جوہری ہتھیاروں کی خاموشی کوکم کرتا ہے اور جوہری اسلحے کی تخفیف کے معاملے کو آگے بڑھاتا ہے۔

 

کانفرنس کی تاریخ پر نگاہ ڈالنے سے معلوم ہوتا ہے کہ پگواش کانفرنس کا پہلا اجلاس،پگواش ،نووا اسکوڈیا ،کناڈا میں 1957 میں ان ایام میں منعقد ہوا تھا جب سرد جنگ پورے شباب پر تھی۔اس میں مختلف سیاسی حلقوں کے اعلی سیاست داں انسانی سماج کولاحق جوہری خطرات کو کم کرنے کے موضوع پر دوستانہ ماحول میں تبادلہ خیال کے لےے شریک ہوئے تھے۔ اس کانفرنس کا انعقاد 1955 کے رسل۔آئن اسٹائن منشور کے نتیجے میں عمل میں آیا تھا۔اس منشور میں پنے نام کااضافہ البرٹ آئن اسٹائن کی زندگی کا آخری عوامی عمل تھا۔

 

پگواش کانفرنس کی اہمیت کا اس وقت عالمی سطح پر اعتراف کیا گیا جب پگواش اور اس کے بنیاد گزاروںمیں سے ایک اہم شخصیت جوزف روٹ بلاٹ کو مشترکہ طور پر 1995 میں نوبل امن انعام حاصل ہوا۔انہیں یہ انعام بین اقوامی سیاست میں جوہری اسلحے کے کردار کو کم کرنے اور آگے چل کر ان اسلحے کے خاتمے کے تعلق سے کی جانے والی کوششوں کے اعتراف میںدیا گیا تھا۔

 

ترجمہ :وارث مظہری)

 

Search